نئی دہلی :27/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)ایودھیا زمین تنازعہ معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک بار پھر سماعت ٹل گئی ہے۔5 ججوں کے بنچ میں جسٹس ایس اے بابڈے کی غیر موجودگی وجہ بتائی جارہی ہے۔اس کیس کی سماعت29جنوری کو شروع ہونے والی تھی،تاہم سماعت کی نئی تاریخ کے بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں ہے۔جسٹس ایس اے بابڈے چند دن قبل ہی اس بنچ میں شامل ہوئے تھے،5ججوں کی اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بابڈے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس عبدالنذیر ہیں۔بتا دیں کہ سپریم کورٹ میں ایودھیا 2.77ایکڑ زمین تنازعہ سے متعلق کیس میں 14اپیلیں دائر کی گئی ہیں،یہ تمام اپیل 30ستمبر 2010کو الہ آباد ہائی کورٹ کے 2بمقابلہ1کی اکثریت کے فیصلے کے خلاف ہے۔اس فیصلے میں ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا براجمان کے درمیان برابر-برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے پر سپریم کورٹ نے مئی 2011میں اسٹے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد پچھلے ہفتے کیس کو سننے کے لئے پانچ ججوں کی بنچ تشکیل دی گئی۔اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے علاوہ کے علاوہ جج جسٹس ایس اے بابڈے، جسٹس این وی رمننا، جسٹس یویو للت اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ شامل تھے۔اسی سال 4جنوری کو سپریم کورٹ نے ایودھیا معاملے کی سماعت کے لئے بنچ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔10جنوری تک پانچ ججوں کی بنچ بنالی گئی تھی، لیکن جسٹس یویو للت بنچ سے الگ ہونے کے بعد اس معاملے کی سماعت ملتوی کردی گئی تھی۔گزشتہ دنوں چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے نئی بنچ تشکیل دیا تھا اور معاملے کی سماعت کے لئے 29جنوری کا دن مقرر کیا تھا۔اس سے پہلے اس معاملے میں ایڈووکیٹ ہری ناتھ رام نے ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے کی غیر معینہ مدت کے لئے ٹالا نہیں کیا جا سکتا اور سپریم کورٹ اس پر جلد سماعت کرے۔